اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کی اور یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے جس کو باقی رکھے جانے کی ضرورت ہے۔
اینٹونیو گوترس، ایرانی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں بھی بارھا جامع ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد جاری رکھنے اور اس معاہدے کو اصل شکل میں باقی رکھنے پر زور دے چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کے ایک سو اسی سے زیادہ ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام اپنے خط میں جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھے جانے اور ایران کی جانب سے اس معاہدے کی پابندی کی تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کے خط میں آیا ہے کہ جب تک ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں مل جاتا کہ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، امریکی ایوان نمائندگا صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کا سرٹیفیکٹ جاری کرنے میں تاخیر سے کام نہ لیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون امریکی صدر کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کیے جانے کے قابل اعتبار دستاویزی شواہد پیش کریں لیکن ایوان نمائندگان کو حکومت کی جانب سے تاحال ایسی کوئی دستاویز موصول نہیں ہوئی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کے مذکورہ ارکان نے اپنے خط میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نیز امریکہ کے بہت سے فوجی اور انٹیلی جینس ماہرین بھی بدستور اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ایران جامع ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے اور اس کی جوہری سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کے انحراف سے متعلق کوئی بھی ثبوت اس ایوان کو موصول نہیں ہوا ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بن کارڈن نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے کی تصدیق کر کے اس عالمی معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر نکل جانے کی روک تھام کریں۔
مذکورہ امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مضبوط دلائل اور بنیادی فیصلے کے بغیر جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کی صورت میں امریکہ عالمی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان جان کربی نے بھی کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہئے کہ جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے کے حوالے سے فوجی جنریلوں کے مشوروں پر عمل کریں۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ ہاس نے بھی یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنا ہی امریکہ کے حق میں بہتر ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ اعلی حکام جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کو پیش کرنے کے لیے نئی تجاویز کی تیاری میں مصروف ہیں۔
درایں اثنا امریکی جریدے پولیٹیکو نے حکومت کے اندر اور باہر اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بعض تبدیلیوں کے ساتھ جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس پندرہ اکتوبر تک کی مہلت ہے کہ وہ ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے کا سرٹیفیکٹ کانگریس کے لیے جاری کریں۔
.......
/169